Brailvi Books

بدگمانی
43 - 64
اس کے خلاف کوئی دلیل غالب نہ ہوجائے اور کسی مسلمان بھائی کی زبان سے نکلنے والے کلمے کو اس وقت تک برا گُمان نہ کرو جب تک کہ تم اسے کسی اچھی صورت پر محمول کر سکتے ہو اور جو خود اپنے آپ کو تہمت کے لئے پیش کرے اسے اپنے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہے ۔''
(شعب الایمان ،باب فی حسن الخلق، فصل فی ترک الغضب ،الحدیث ۸۳۴۵،ج۶،ص۳۲۳)
    حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمانِ نصیحت نشان ہے : ''اپنے بھائی کی زبان سے نکلنے والے کلمات کے بارے میں بدگُمانی مت کرو جب تک کہ تم اسے بھلائی پر مَحْمُول کرسکتے ہو ۔
(الدرالمنثور،ج۷،الحجرٰت تحت الآیۃ ۱۲، ص ۵۶۵)
(4)مسلمان کا حال حتی الامکان اچھائی پر حمل کرنا واجب ہے

     اِمامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ)فتاویٰ رضویہ شریف میں لکھتے ہیں :''مسلمان کا حال حَتَّی الْاِمْکَان صَلَاح (یعنی اچھائی)پر حمل کرنا (یعنی گُمان کرنا) واجب ہے۔''(فتاویٰ رضویہ ،ج۱۹،ص۶۹۱)

    صدرُ الْاَفَاضِل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ)تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں:''مومِنِ صالِح کے ساتھ برا گُمان ممنوع ہے اس طرح (کہ )اُس کا کوئی کلام سن کر فَاسِد معنیٰ مراد لینا باوُجُودیکہ
Flag Counter