Brailvi Books

بدگمانی
42 - 64
ہے جب تک تم اس کی برائی اس طرح ظاہِر نہ دیکھو کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہ رہے۔ پس اُس وقت تمہیں لامحالہ اسی چیز کا یقین رکھناپڑے گا جسے تم نے جانا اور دیکھا ہے ۔ اور اگر تم نے اُس کی برائی کو نہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اورنہ ہی کانوں سے سنا مگر پھر بھی تمہارے دِل میں اس کے بارے میں بُرا گُمان پیدا ہو تو سمجھ جاؤ کہ یہ بات تمہارے دِل میں شیطان نے ڈالی ہے۔اس وقت تمہیں چاہے کہ دِل میں آنے والے اس گُمان کو جھٹلا دو کیونکہ یہ سب سے بڑا فسق ہے۔''مزید لکھتے ہیں:''یہاں تک کہ اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بُو آرہی ہو تو اس کوشرعی حد لگانا جائز نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے شراب کا گھونٹ بھرتے ہی کلّی کردی ہو یا کسی نے اسے زبردستی شراب پلادی ہو ،جب یہ سب احتمال موجود ہیں تو (ثبوتِ شرعی کے بغیر)محض قلبی خیالات کی بنا پر تصدیق کردینا اور اس مسلمان کے بارے میں بدگُمانی کرنا جائز نہیں ہے ۔''(احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان،ج۳،ص۱۸۶)

(3)اچھی صورت پر محمول کرو

    جلیل القدر تابعی حضرت سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ''اصحابِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے میرے بعض بھائیوں نے مجھے لکھ کر بھیجا کہ اپنے مسلمان بھائی کے فعل کو اچھی صورت پر محمول کرو جب تک