ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں وہ ان کا کس طرح تدارُک کرے ؟''ارشاد فرمایا:''جب تم حَسَد کرو تو اللہ تعالیٰ سے اِسْتِغْفار کرو اور جب تم کوئی بدگُمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب تم بدفالی نکالو تو اس کام کو کر لو ۔'' (المعجم الکبیر،الحدیث ۳۲۲۷،ج۳،ص۲۲۸)
علامہ محمد عبدالر ؤوف مناوی علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۰۳۱ھ)فیض القدیر میں لکھتے ہیں :اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تینوں خصلتیں امراضِ قلب میں سے ہیں جن کا عِلاج ضروری ہے جو کہ حدیث میں بیان کردیا گیا ہے ۔ بدگُمانی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ دِل یا اعضاء سے اس کی تصدیق نہ کرے ۔ تصدیق قلبی سے مراد یہ ہے کہ اس گُمان کو دِل پر جمالے اور اسے ناپسند نہ جانے اور اس (یعنی تصدیقِ قلبی )کی علامت یہ ہے کہ بدگُمانی کرنے والا اس برے گُمان کو زبان سے بیان کردے ۔(فیض القدیر ،الحدیث ۳۴۶۵،ج۳،ص۴۰۱)
حجۃ الاِسلام اِمام محمدغزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ)فرماتے ہیں: ''بدگُمانی کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دِل کے بھیدوں کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔لہٰذا تمہارے لئے کسی کے بارے میں بُرا گُمان رکھنا اس وقت تک جائز نہیں