Brailvi Books

بدگمانی
39 - 64
چھٹاعلاج:
    جب بھی کسی مسلمان کے بارے میں دِل میں بُرا گُمان آئے تو اسے جھٹکنے کی کوشش کریں اور اس کے عمل پر اچھا گُمان قائم کرنے کی کوشش کریں۔ مثلاً کوئی اِسلامی بھائی نعت یا بیان سنتے ہوئے اشک بہا رہا ہو اور اسے دیکھ کر آپ کے دِل میں اس کے متعلق رِیاکاری کی بدگُمانی پیدا ہو تو فوراً اس کے اِخلاص سے رونے کے بارے میں حسنِ ظن قائم کر لیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عظمت نشان ہے :
لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوۡہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمْ خَیۡرًا ۙ وَّ قَالُوۡا ہٰذَاۤ اِفْکٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۲﴾
ترجمہ کنزلایمان:کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پرنیک گُمان کیاہوتا اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے۔ (پ،۱۸،النور:۱۲)

    علامہ محمد بن جریر طبری علیہ رحمۃ اللہ القوی (اَ لْمُتَوَفّٰی۳۱۰ھ)اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: یعنی مومِنین ایک دوسرے کے بارے میں حسنِ ظن قائم کریں اور اسے بیان بھی کریں اگرچہ یہ گُمان یقین کے دَرَجے تک نہ پہنچا ہو ۔
(جامع البیان فی تاویل القراٰن ،پ ۲۶،الحجرٰت:تحت الآیۃ ۱۲،ج۱۱، ص۳۹۴،ملخصا)
    اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے :'' مسلمان کو یہی حکم ہے کہ مسلمان کے ساتھ نیک گُمان کرے اور بدگُمانی ممنوع ہے ۔''
Flag Counter