Brailvi Books

بدگمانی
37 - 64
پہلا علاج:
    ہمیں چاہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں ۔ جو اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہے اسے سکونِ قلب نصیب ہوتا اور جو بدگُمانی کی بُری عادت میں مبتلاہواس کے دِل میں وحشتوں کا بسیرا رہتا ہے ۔
دوسرا علاج:
    اپنی اِصلاح کی کوشش جاری رکھئے کیونکہ جو خود نیک ہوتا ہے وہ دوسروں کے بارے میں بھی اچھے گُمان رکھتا ہے ۔جو خود بُرے کاموں میں مشغول رہتا ہے اسے دوسرے بھی اپنے جیسے دکھائی دیتے ہیں ۔عربی مقولہ ہے :
اذَا سَاءَ فِعْلُ الْمَرْءِ سَاءَ تْ ظُنُوْنُہُ
یعنی جب کسی کے کام برے ہوجائیں تو اس کے گُمان بھی بُرے ہوجاتے ہیں۔ (فیض القدیر ،ج۳،ص۱۵۷)
تیسراعلاج:
    بُری صحبت سے بچتے ہوئے نیک صحبت اِختِیار کیجئے،جہاں دوسری بَرَکتیں ملیں گی وہیں بدگُمانی سے بچنے میں بھی مدد ملے گی ۔روح المعانی میں ہے :
''صُحْبَۃُ الْاَشْرَارِ تُوْرِثُ سُوْءَ الظَّنِّ بِالْاَخْیَارِ
یعنی بُروں کی صحبت اچھوں سے بدگُمانی پیدا کرتی ہے ۔(روح المعانی ،پ ۱۶،مریم :تحت الآیۃ ۹۸،ج۱۶،ص۶۱۲)
Flag Counter