بُزُرگ ہیں جو شاہی دربار میں حاضِری دیتے ہیں ۔ بہرحال یہ دونوں بازار کی طرف نکل گئے اور اپنی جیب سلوانے کے لئے ایک درزی کی دُکان پر پہنچے۔ اسی دوران درزی کی قینچی گم ہوگئی اور اس نے ان دونوں کو چوری کے شبہ میں گرفتار کروا دیا ۔ جب پولیس دونوں کو لے کرشاہی دربار میں پہنچی تو حضرت ابو عبداللہ خفیف علیہ رحمۃ اللہ اللطیف نے بادشاہ سے اِن کی سِفارِش کرتے ہوئے فرمایا:''یہ دونوں چور نہیں ہیں،لہٰذا اِن کو چھوڑدیا جائے ۔''چنانچہ آپ کی سفارش پر ان دونوں کو رِہا کردیا گیا ۔ اس کے بعد آپ نے ان دونوں سے فرمایا:''میں اسی وجہ سے دربارِ شاہی میں موجود رہتا ہوں۔''یہ سن کر وہ دونوں معذرت کرنے لگے اور آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہوگئے۔(تذکرۃ الاولیاء،ذکرابو عبد اللہ خفیف،ص۱۰۹)