اپنے ہاتھ سے اٹھا کر مجھے دے دیں تو میں جان لوں گا کہ یہ ولی ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہی سیب اٹھا کر فرمایا :'' ہم مصر گئے تھے وہاں ایک جگہ جلسہ بڑا بھاری تھا، دیکھا کہ ایک شخص ہے اس کے پاس ایک گدھا ہے اور اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ۔ ایک چیز ایک شخص کی دوسرے کے پاس رکھ دی جاتی ہے ۔ اس گدھے سے پوچھا جاتا ہے ، گدھا ساری مَجْلِس کا دورہ کرتا ہے ، جس کے پاس ہوتی ہے ، جاکر سر ٹیک دیتا ہے ۔ ''یہ حِکایت ہم نے اس لئے بیان کی کہ اگر یہ سیب نہ دیں تو ہم ولی ہی نہیں ، اور اگر دیں گے تو اس گدھے سے بڑھ کر کیا کمال دِکھایا ۔ یہ فرما کر سیب بادشاہ کی طرف پھینک دِیا ۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت قدس سرہ ،حصہ ۴،ص۳۴۲)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ رحمہم اللہ کی بارگاہ میں زبان کے ساتھ ساتھ دِل بھی سنبھال کر جانا چاہے ۔