Brailvi Books

بدگمانی
34 - 64
لگاتے اتنا دھنستے چلے جاتے ، یہاں تک کہ بغلوں تک دھنس گئے ۔ اب نہایت پریشان ہوئے کہ کیا کریں ،اتنے میں دیکھا کہ حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے اور ایک ہاتھ سے باہر نکال کر دریا کے پار پہنچا دیا ۔ پھر آپ کی آنکھ کھل گئی اور اس سے پہلے کہ آپ کچھ کہتے ، حضرت امیرکلال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اگر ہم کُشتی نہ لڑیں تو یہ طاقت کہاں سے آئے (یعنی ہمارا لڑنا اللہ تعالیٰ کی رضا اور جہاد کی تیاری کے لئے ہے)۔ یہ سن کر آپ فوراً ان کے قدموں میں گر گئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔( ملفوظات اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،حصہ ۴،ص۳۶۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(4) خوش رنگ سیب
     اِمامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن

(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ)کا بیان ہے :ایک صاحب اولیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم میں سے تھے ۔ آپ کی خدمت میں بادشاہِ وقت قدم بوسی کے لئے حاضِر ہوا ۔ حضور کے پاس کچھ سیب نذر میں آئے تھے ۔ حضور نے ایک سیب بادشاہ کو دیا اور کہا کھاؤ۔اس نے عرض کی حضور بھی نوش فرمائیں ۔ چنانچہ آپ نے بھی کھائے اور بادشاہ نے بھی ۔ اس وقت بادشاہ کو دِل میں خیال گزرا کہ یہ جو سب سے بڑا خوش رنگ سیب ہے اگر
Flag Counter