لگاتے اتنا دھنستے چلے جاتے ، یہاں تک کہ بغلوں تک دھنس گئے ۔ اب نہایت پریشان ہوئے کہ کیا کریں ،اتنے میں دیکھا کہ حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے اور ایک ہاتھ سے باہر نکال کر دریا کے پار پہنچا دیا ۔ پھر آپ کی آنکھ کھل گئی اور اس سے پہلے کہ آپ کچھ کہتے ، حضرت امیرکلال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اگر ہم کُشتی نہ لڑیں تو یہ طاقت کہاں سے آئے (یعنی ہمارا لڑنا اللہ تعالیٰ کی رضا اور جہاد کی تیاری کے لئے ہے)۔ یہ سن کر آپ فوراً ان کے قدموں میں گر گئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔( ملفوظات اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،حصہ ۴،ص۳۶۴)