Brailvi Books

بدگمانی
32 - 64
(2) بدگُمانی کرنے والی کنیز
    علامہ عبدالکریم بن ھوازن قشیری علیہ رحمۃاللہ الوالی(اَ لْمُتَوَفّٰی۴۶۵ھ) رقم طراز ہیں : حضرت سیدناابوالحسن نوری علیہ رحمۃ اللہ الھادی کی خادِمہ زیتونہ کا بیان ہے: ایک مرتبہ سخت سردی تھی ، میں نے حضرت سے پوچھا :''آپ کے لئے کچھ لاؤں؟'' توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دودھ اورروٹی لانے کا حکم فرمایا۔میں مطلوبہ چیزیں لے کر حاضِر خدمت ہوئی تو دیکھا کہ آپ کے سامنے کچھ کوئلے پڑے تھے جنہیں آپ ہاتھ سے اُلٹ پلٹ رہے تھے ۔آپ نے روٹی لی اور کھانا شروع کردی ۔اب منظر یہ تھا کہ آپ روٹی کھا رہے تھے اور دُودھ آپ کے ہاتھ پر بہہ رہا تھا جس پر کوئلے کی کالک لگی ہوئی تھی ۔یہ دیکھ کر میں نے دِل میں کہا :'' الہٰی عَزَّوَجَلَّ !تیرے یہ ولی کس قدر گندے ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی صفائی کا خیال رکھنے والا نہیں ہوتا۔''

    اِس کے بعد میں کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو اچانک ایک عورت آکر مجھ سے چمٹ گئی اور مجھ پراپنے کپڑوں کی گٹھڑی کی چوری کا اِلزام لگانے لگی۔میرے فریاد کرنے کے باوُجُود لوگ مجھے پکڑ کرکَوتَوال کے پاس لے گئے۔ حضرت کو اِطّلاع ہوئی تو آپ تشریف لائے اور میرے حق میں سِفاِرش فرمائی ۔ مگرکوتوال نے بصد ادب عرض کی :''حضرت میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں جبکہ یہ
Flag Counter