والے سے ایک دِرہم کے کباب خریدے۔ یہ دیکھ کر میراغصہ اور فُزُوں ہوا ۔ وہاں سے وہ حلوائی کی دُکان پر پہنچے اور ایک دِرہم کا فالُودہ لیا ۔ میں نے دِل میں ٹھان لی کہ انہیں خریدنے دو ،جب یہ اسے کھانے بیٹھیں گے تو میں اِن کا مزہ کِرکرا کروں گا۔سب چیزیں خریدنے کے بعد انہوں نے جنگل کی راہ لی ۔ میں نے سوچا انہیں بیٹھ کر کھانے کے لئے شاید سبزہ زار اور پانی کی تلاش ہے چُنانچہ میں ان کے پیچھے لگا رہا حتی کہ عَصْر کے وقت آپ ایک گاؤں کی مسجِد میں پہنچے ،جہاں ایک بیمار آدمی موجود تھا ۔آپ اس کے سرہانے بیٹھ کر اسے کھانا کھلانے لگے ۔ میں تھوڑی دیر کے لئے وہاں سے چلا گیا اور گاؤں کی سیر کو نکل گیا۔جب میں واپس لوٹا تو حضرت بِشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الھادی وہاں نہیں تھے ۔میں نے اس بیمار سے آپ علیہ رحمۃ اللہ الھادی کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایاکہ وہ بغداد چلے گئے۔ میں نے پوچھا:''بغداد یہاں سے کتنی دور ہے ؟''اس نے بتایا :''تقریباً ۱۲۰ میل ۔''میری زبان سے نکلا: