Brailvi Books

بدگمانی
29 - 64
''ہِدَایَت''کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے اولیاء اللہ سے بدگُمانی کرنے والوں کی توبہ کی5حکایات

(1) سوداگر کی توبہ
    علامہ عبداللہ بن اسعد یافعی علیہ رحمۃاللہ الوالی(اَ لْمُتَوَفّٰی۷۶۸ھ) لکھتے ہیں :ایک صاحب ِ علم وفضل بیان کرتے ہیں کہ بغداد میں ایک سوداگر تھا جو اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی شان میں بدکلامی کیا کرتاتھا ۔ کچھ عرصہ بعد میں نے اسی شخص کو اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی صُحبت میں دیکھا اور کسی نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی ساری دولت انہیں پر لُٹا دِی ہے ۔ میں نے اس سوداگر سے اِس تبدیلی کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا:''میں غَلَطی پر تھااور اس کا اِحساس مجھے اِس طرح ہوا کہ ایک مرتبہ جمعہ کی نَماز کے بعد میں نے حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافِی علیہ رحمۃ اللہ الھادی کو دیکھا کہ بَہُت جلدی میں مسجِد سے نکل رہے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ دیکھو تو سہی یہ شخص بڑا صُوفی کہلاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لئے مسجدمیں رُکنے کو تیّار نہیں ۔میں نے سب کچھ چھوڑ ا اور اپنے دِل میں کہا :دیکھوں تو سہی کہ یہ کہاں جاتے ہیں؟اور ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔انہوں نے بازار جاکر نان بائی سے نرم نرم روٹیاں خریدیں ، میں نے سوچا صُوفی صاحب کو دیکھئے نرم نرم روٹیاں لے رہے ہیں، اس کے بعد آپ نے کباب
Flag Counter