Brailvi Books

بدگمانی
28 - 64
ہو گئی تو بد گُمانی ۔۔۔۔۔۔فُلاں کے پاس تھوڑے ہی عرصے میں گاڑی ،اچھّا مکان اور دیگر سہولیات آگئیں فوراً بد گُمانی ،اُسے شہرت مل گئی تو بدگُمانی ۔

    آپ غور کرتے جائیں تو شب و روز نہ جانے کتنی مرتبہ ہم بد گُمانی کا شکار ہوتے ہوں گے ۔پھر یہ اِبتداء ًپیدا ہو نے والی بدگُمانی اُس شخص کے عیبوں کی ٹوہ میں لگاتی، حَسَد پر اُبھارتی،غِیبت اور بُہْتَان پر اُکساتی اور آخِرت برباد کرتی ہے۔اِسی بدگُمانی کی وجہ سے بھائی بھائی میں دُشمنی ہوجاتی ہے ، ساس بہومیں ٹَھن جاتی ہے ، میاں بیوی میں جُدائی،بھائی بہنوں کے درمیان قَطْع تَعَلُّقِی ہوجاتی ہے اور یوں ہنستے بستے گھر اُجڑجاتے ہیں،اور اگر یہی بدگُمانی کسی مذہبی تحریک سے وابستہ اَفراد میں آجائے تو نِگران ومَاتَحْت کے درمیان اِعْتِماد کی فضا ختم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ناقابِل بیان نُقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اور اگر یہ بدگُمانی اولیاء کِرام رحمہم اللہ بالخصوص اپنے پیرومُرْشِد سے ہو تو ایساشخص فُیُوض وبَرَکات سے مَحْرُوم رہ جاتا ہے ۔ اِمامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن مرید پر پیر کے حقوق کا بیان کرتے ہوئے کچھ یوں لکھتے ہیں :''(اپنے پیر سے متعلق) دِل میں بدگُمانی کو جگہ نہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غَلَطی ہے۔'' (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ،ج۲۴،ص۳۶۹)