| بدگمانی |
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!بدگُمانی میں مبتلا ہونے والا وادیئ ہلاکت میں جاپڑتا ہے کیونکہ اِس ایک گُناہ کی وجہ سے دیگر کئی گناہ سَرْزَد ہوجاتے ہیں مثلاً
(1)اگر سامنے والے پر اِس کااظہار کیا تو اُس کی دِل آزاری کا قوی اندیشہ ہے اور بغیر اِجازتِ شرعی مسلمان کی دِل آزاری حرام ہے ۔ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: ''جس نے کسی مسلمان کو اَذِیَت دی اس نے مجھے اَذِیَت دی اور جس نے مجھے اَذِیَت دی ،پس اس نے اللہ تعالیٰ کواَذِیَت دی ۔''(المعجم الاوسط ،الحدیث،۳۶۰۷،ج۲،۳۸۶)
(2) اگراس کی غیر موجودگی میں کسی دوسرے پر اِظہار کیا تو غِیبت ہوجائے گی اور مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے ۔قراٰن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی پسندرکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔(پ۲۶،الحجرٰت:۱۲)
حجۃالاِسلام اِمام محمدغزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی(اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) ارشاد فرماتے ہیں : ''مسلمانوں سے بدگُمانی رکھنا شیطان کے مکر وفریب کی وجہ سے ہوتا ہے ،