Brailvi Books

بدگمانی
26 - 64
بے شک بعض گُمان گناہ ہوتے ہیں اور جب کوئی شخص کسی کے بارے میں بدگُمانی کو دِل پر جما لیتا ہے تو شیطان اس کو اُبھارتاہے کہ وہ زبان سے اِس کااِظہار کرے اس طرح وہ شخص غِیبت کامُرْتَکِب ہوکر ہلاکت کاسامان کر لیتا ہے یاپھر وہ اس کے حُقُوق پورے کرنے میں کوتاہی کرتاہے یاپھر اُسے حقیر اور خود کو اُس سے بہترسمجھتا ہے اور یہ تمام چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں ۔ (الحدیقۃ الندیۃ ،ج۲،ص۸)

    (3)بدگُمانی کے نتیجے میں تَجَسُّس پیدا ہوتا ہے کیونکہ دِل محض گُمان پر صَبْر نہیں کرتا بلکہ تَحْقِیْق طَلَب کرتا ہے جس کی وجہ سے اِنسان تَجَسُّس میں جاپڑتا ہے اور یہ بھی ممنوع ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
 وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا
ترجمہ کنزلایمان:اور عیب نہ ڈھونڈھو۔(پ،۲۶،الحجرٰت:۱۲)

    صدر الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں: ''یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے چھپے حال کی جستجو میں نہ رہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ستّاری سے چھپایا۔''

    (4)بدگمانی سے بُغض اور حَسَد جیسے باطِنی اَمراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔
(فتح الباری ،الحدیث ۶۰۶۶،ج۱۰،ص۴۱۰)
Flag Counter