علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃ اللہ القوی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۱۴۳ھ) لکھتے ہیں:شک یا وہم کی بناء پر مؤمنین سے بدگُمانی اِس صورت میں حرام ہے جب اس کا اثر اَعضاء پر ظاہِر ہو یعنی اس کے تقاضے پر عمل کر لیا جائے مثلاًاس بدگُمانی کو زبان سے بیان کردیا جائے ۔ (الحدیقۃ الندیۃ،ج۲،ص۱۳ملخصًا)
اورعلامہ سیِّد محمود آلُوسی علیہ رحمۃ اللہ القوی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۲۷۰ھ)لکھتے ہیں: جب بدگُمانی غیر اِختِیاری ہو تو جس چیز کی مُمَانَعَت ہے ،وہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے یعنی مظنون (یعنی جس کے بارے میں دِل میں گُمان آئے) کو حقیر جاننا یا اس کی عیب گوئی کرنایا اس بدگُمانی کوبیان کردینا ۔