Brailvi Books

بدگمانی
24 - 64
(2) بدگُمانی کو زبان پر لے آنایا اس کے تقاضے پر عمل کر لینا:
    علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃ اللہ القوی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۱۴۳ھ) لکھتے ہیں:شک یا وہم کی بناء پر مؤمنین سے بدگُمانی اِس صورت میں حرام ہے جب اس کا اثر اَعضاء پر ظاہِر ہو یعنی اس کے تقاضے پر عمل کر لیا جائے مثلاًاس بدگُمانی کو زبان سے بیان کردیا جائے ۔ (الحدیقۃ الندیۃ،ج۲،ص۱۳ملخصًا)

    اورعلامہ سیِّد محمود آلُوسی علیہ رحمۃ اللہ القوی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۲۷۰ھ)لکھتے ہیں: جب بدگُمانی غیر اِختِیاری ہو تو جس چیز کی مُمَانَعَت ہے ،وہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے یعنی مظنون (یعنی جس کے بارے میں دِل میں گُمان آئے) کو حقیر جاننا یا اس کی عیب گوئی کرنایا اس بدگُمانی کوبیان کردینا ۔
(روح المعانی ،پ ۲۶،الحجرٰت:تحت الآیۃ ۱۲،ج۲۶، ص۴۲۹،ملخصاً)
    مثلاً آپ کی دعوت میں نہ پہنچنے والے اِسلامی بھائی نے ملاقات ہونے پر اپنا کوئی عُذْر پیش کیا مگر آپ کے دِل میں شیطان نے وَسْوَسَہ ڈالا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور آپ نے اس گُمان کی پیروی کرتے ہوئے فوراً بول دیا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو ایسی بدگُمانی حرام ہے ۔
Flag Counter