| بدگمانی |
بلکہ شک بھی معاف ہے ۔''مزید لکھتے ہیں:''بدگُمانی کے پختہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ مظنون کے بارے میں تمہاری قَلْبِی کَیْفِیَّت تبدیل ہوجائے ، تمہیں اُس سے نفرت محسوس ہونے لگے ،تم اُس کو بوجھ سمجھو،اس کی عزت واِکرام اور اس کے لئے فِکْرمند ہونے کے بارے میں سُستی کرنے لگو ۔نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:جب تم کوئی بدگُمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو ۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث ۳۲۲۷،ج۳،ص۲۲۸)
یعنی اسے اپنے دِل میں جگہ نہ دو ،نہ کسی عمل کے ذریعے اس کا اِظہار کرو اور نہ اَعضاء کے ذریعے اس بدگُمانی کو پُختہ کرو ۔
(احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان،ج۳،ص۱۸۶)
مثلاًشیطان نے کسی اِسلامی بھائی کے دِل میں کسی نیک شخص کے بارے میں رِیاکاری کا گُمان ڈالا تو اس اِسلامی بھائی نے اس گُمان کو فوراً جھٹک دیا اور اس مسلمان کے بارے میں مُخْلِص ہونے کا حسن ِ ظن قائم کر لیا تو اب اس کی گَرِفْت نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ گنہگار ہو گا ۔اِس کے برعکس اگر دِل میں بدگُمانی آنے کے بعد اُس کو نہ جُھٹلایا اور وہ بدگُمانی اس کے دِل میں قَرار پکڑ ے رہی حتی کہ یقین کے دَرَجے پر پہنچ گئی کہ فُلاں شخص ریا کار ہی ہے تو اب بدگُمانی کرنے والا گناہ گار ہوگا چاہے اس بارے میں زبان سے کچھ نہ بولے ۔