Brailvi Books

بدگمانی
22 - 64
بوجھ ڈالنا ہے اور یہ بات شرعی تقاضے کے خلاف ہے ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر ۔(پ۲،البقرۃ:۲۸۶)
بدگُمانی کے حرام ہونے کی دو صُورتیں
    (۱)جب اِنسان اس بدگُمانی کو دِل پر جمالے(یعنی اس کا یقین کرلے) 

    (۲) اِس کو زبان پر لے آئے یا اِس کے تقاضے پر عمل کر لے ۔

(1) بدگُمانی کو دِل پر جما لینا :

    شارح بخاری علامہ بدرُالدین محمود بن احمد عینی علیہ رحمۃاللہ الغنی (اَلْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں :گُمان وہ حرام ہے جس پر گُمان کرنے والا مُصِرہو (یعنی اصرار کرے)اور اسے اپنے دِل پر جمالے نہ کہ وہ گُمان جو دِل میں آئے اور قرار نہ پکڑے ۔
(عمدۃ القاری ،الحدیث ۹۶ج۱۴،۹۶)
     حجۃ الاِسلام اِمام محمدغزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ)فرماتے ہیں : (مسلمان سے)بدگُمانی بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح زبان سے برائی کرنا حرام ہے ۔ لیکن بدگُمانی سے مُراد یہ ہے کہ دِل میں کسی کے بارے میں برا یقین کرلیا جائے،رہے دِل میں پیدا ہونے والے خدشات و وَسْوَسے تو وہ معاف ہیں
Flag Counter