(۱)جب اِنسان اس بدگُمانی کو دِل پر جمالے(یعنی اس کا یقین کرلے)
(۲) اِس کو زبان پر لے آئے یا اِس کے تقاضے پر عمل کر لے ۔
(1) بدگُمانی کو دِل پر جما لینا :
شارح بخاری علامہ بدرُالدین محمود بن احمد عینی علیہ رحمۃاللہ الغنی (اَلْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں :گُمان وہ حرام ہے جس پر گُمان کرنے والا مُصِرہو (یعنی اصرار کرے)اور اسے اپنے دِل پر جمالے نہ کہ وہ گُمان جو دِل میں آئے اور قرار نہ پکڑے ۔
(عمدۃ القاری ،الحدیث ۹۶ج۱۴،۹۶)
حجۃ الاِسلام اِمام محمدغزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ)فرماتے ہیں : (مسلمان سے)بدگُمانی بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح زبان سے برائی کرنا حرام ہے ۔ لیکن بدگُمانی سے مُراد یہ ہے کہ دِل میں کسی کے بارے میں برا یقین کرلیا جائے،رہے دِل میں پیدا ہونے والے خدشات و وَسْوَسے تو وہ معاف ہیں