(شعب الایمان ،باب فی تحریم اعراض الناس،الحدیث ۶۷۰۶،ج۵،ص۲۹۷)
(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مرفوعاًمروی ہے : ''جس نے اپنے مسلمان بھائی سے بُرا گُمان رکھا ،بے شک اس نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے برا گُمان رکھا۔''
(الدرالمنثور،پ۲۶،الحجرٰت ،تحت الآیۃ۱۲ ،ج۷،ص۵۶۶)
بدگُمانی پر حکمِ شرعی کب لگے گا؟
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!کسی شخص کے دِل میں کسی کے بارے میں بُرا گُمان آتے ہی اسے گنہگار قرار نہیں دیا جائے گا کیونکہ محض دِل میں بُرا خیال آجانے کی بنا پر سزا کا حقدار ٹھہرانے کا مطلب کسی اِنسان پر اس کی طاقت سے زائد