دوسری صورت :
جب نُقصان میں مُبتِلاء ہونے کا قَوِی اِحتِمال ہو ۔مثلاً کسی اِسلامی بھائی نے کسی کے ساتھ کاروباری شَرَاکَت کی یا خریدوفروخت کی یا اس سے کرائے پر کوئی چیز لی یا کسی بھی طرح کا مالی مُعَامَلَہ طے کیا اور سامنے والے کی کسی مشکوک حَرَکت کی وجہ سے دِل میں بے اِختِیار بدگُمانی پیدا ہوئی اور اس نے اس بدگُمانی کی بُنیاد پرایسی اِحتِیاطی تدابیر اِختِیار کیں جس سے سامنے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچے تو جائز ہے کیونکہ اگر حقیقتاً سامنے والے کی نیت دُرُست نہ ہو اور یہ شخص حسن ِ ظن ہی قائم کرتا رہ جائے تو نقصان میں مبتلا ہونے کا قَوِی اِمکان ہے ۔
جیسا کہ علامہ سید سیِّد محمود آلُوسی بَغدادی علیہ رحمۃ اللہ القوی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۲۷۰ھ) تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں:''گُمان کرنے والے کے لئے بُرے گُمان کے تقاضے پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں (جبکہ مظنون کو کوئی نقصان نہ پہنچے ) مثلاً اس نے کسی شخص کے بارے میں گُمان کیا کہ وہ اُسے نُقصان پہنچانا چاہتا ہے تووہ اس سے بچنے کے لئے ایسے اَقدامات کرسکتا ہے جن کی وجہ سے اُس(سامنے والے) شخص کو نقصان نہ پہنچے ۔طبرانی شریف میں ہے : ''لوگوں سے سوئے ظن کے ذریعے اپنی حفاظت کرو ۔''(المعجم الاوسط، الحدیث۵۹۸،ج۱،ص۱۸۱) مزید لکھتے ہیں:''برے گُمانوں