| بدگمانی |
اُس کا ایسا ہونا ثابِت ہوتا ہو ،تو اَب حرام نہیں ۔مثلاًکسی کو بھٹی (یعنی شراب خانے)میں آتے جاتے دیکھ کر اُسے شراب خور(یعنی شراب پینے والا) گُمان کیا تو اِس (یعنی بدگُمانی کرنے والے)کاقصور نہیں ،اُس (یعنی شراب خانے میں آنے جانے والے )نے مَوْضَعِ تُہْمَت (یعنی تہمت لگنے کی جگہ ) سے کیوں اِجْتِنَاب(یعنی پرہیز )نہ کیا۔'' (فتاویٰ امجدیہ، ج۱،ص۱۲۳)امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ''جو اپنے آپ کو خود تہمت کے لئے پیش کردے تو وہ اپنے بارے میں بدگُمانی کرنے والے کو مَلَامت نہ کرے ۔''
(الدرالمنثور،ج۷،الحجرٰت تحت الآیۃ آیۃ ۱۲، ص ۵۶۶)
بدگُمانی جائز ہونے کا مطلب
یاد رہے کہ اَہلِ مَعْصِیّت اورعلانیہ گناہ کرنے والوں سے بدگُمانی جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان کی بدگوئی یا عیب اُچھالنا شروع کردیں بلکہ ایسی صورت میں رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے صرف دِل میں انہیں بُرا سمجھا جائے ۔ (الحدیقۃ الندیۃ،ج۲، ص۱۱ ملخصًا) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :''ہر مسلمان کی عزت ،مال اور جان دوسرے (مسلمان ) پر حرام ہے ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب البر والصلۃ ،الحدیث ۱۹۳۴،ج۳،ص۳۷۲)