| بدگمانی |
میں آنا جانا یا گانے والی فَاجِرہ عورتوں کی صُحبت اِختِیار کرنا یا کسی بے رِیش (بغیر داڑھی والے)کی طرف مسلسل دیکھتے رہنا ، تو اس صورت میں بدگُمانی حرام نہیں ،چاہے گُمان کرنے والے نے انہیں شراب پیتے یا زنا کرتے یابے ہودہ کام(یعنی بدفعلی) کرتے ہوئے نہ دیکھا ہو ۔''
(روح المعانی،پ۲۶،الحجرٰت تحت الآیۃ۱۲ ،ج۲۶،ص۴۲۸ ملخصاً)
علامہ اسماعیل حقی علیہ رحمۃ اللہ القوی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۱۳۷ھ)ارشاد فرماتے ہیں: ''گُمان کی طرف اُس وقت تک پیش رفت نہ کی جائے جب تک کہ مَظْنُوْن(یعنی جس کے بارے میں دِل میں گُمان آئے)کے بارے میں غوروفِکْر نہ کرلیا جائے ۔چُنانچہ اگر مظنون نیک ہے تو اُس پر معمولی وہم کی وجہ سے بدگُمانی نہ کی جائے بلکہ احتیاط برتی جائے اورتم اس وقت تک کسی کے ساتھ بدگُمانی نہ کرو جب تک کہ تمہارے لئے حُسن ظن رکھنا ممکن ہو ۔ رہا فُسّاق کا معاملہ تو ان کے ساتھ ایسی بدگُمانی رکھنا جائز ہے جو ان کے اَفعال سے ظاہِر ہو ۔''
(روح البیان،پ۲۶،الحجرٰت تحت الآیۃ۱۲ ،ج۹،ص۸۵)
صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۷۶ھ) لکھتے ہیں: ''بےشک مسلمان پر بدگُمانی حرام ہے مگر جبکہ کسی قرینہ سے