Brailvi Books

بدگمانی
16 - 64
اسی طرح سوئے ظن (بدگُمانی )کی بھی دو قسمیں ہیں:

(۱) جائز         (۲) مَمْنُوع
(1) بدگُمانی کے جائزہونے کی صورتیں
پہلی صورت:

    فَاسِقِ مُعْلِنْ(یعنی علانیہ گناہ کرنے والے )کے ساتھ ایسا گُمان کرنا جیسے اَفعال اس سے ظہور میں آتے ہوں۔(خزائن العرفان ،پ۲۶،الحجرٰت ،تحت الآیۃ ۱۲ )

     علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی علیہ رحمۃ اللہ القوی (اَ لْمُتَوَفّٰی۶۷۱ھ)لکھتے ہیں: ''اگرکوئی شخص نیک ہو تو اس کے بارے میں بدگُمانی جائز نہیں اور جو علانیہ گناہ کبیرہ کا مُرْتَکِب ہو اور فِسْق میں مشہور ہو تو اُس کے بارے میں بدگُمانی کرنا جائز ہے ۔''(الجامع لاحکام القراٰن ،پ۲۶،الحجرٰت تحت الآیۃ۱۲ ،ج۸،ص۲۳۸ ملخصاً)

     علامہ سیِّد محمود آلُوسی علیہ رحمۃ اللہ الغنی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۲۷۰ھ)ارشاد فرماتے ہیں:''سوئے ظن اُس وقت حرام ہوگا جب مَظْنُوْن(یعنی جس کے بارے میں گُمان کیاجائے) ایسا شخص ہو جس کے عُیُوب کی پوشیدگی،صالِحِیّت (یعنی نیک ہونے)اور اَمَانَت ودِیَانَت کا مُشَاہَدَہ کیا جائے(یعنی وہ نیکی میں مشہور ہو) اور اگر کوئی شک میں مُبتِلا کرنے والے بُرے کاموں میں علانیہ طور پر مَشْغُوْل ہو جیسے شراب کی دُکان
Flag Counter