قحط میں لوگوں کى مدد
ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گاؤں ”پانڈوکے ‘‘ میں سخت قحط آن پڑا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے لوگوں سے فرمایا: مىرے آستانے کی زمین پر مٹى ڈال کر اسے اونچا کردیں اور ایک چبوترہ بنادیں فى کس دو آنے کے حساب سے سب کو اجرت ملے گی، چنانچہ اردگرد کے لوگ مٹى ڈالنے کے لىےآنے لگے روزانہ شام کو جب کام پورا کرلیتے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے جائے نماز کے نىچے سے رقم نکال نکال کر ہر ایک کے ہاتھ پر رکھ دیتے۔اس صورتحال کوجب دو مزدوروں نے دیکھا تو آپس میں کہنے لگے : ىقىنا ًاس جائے نماز کے نىچے بہت بڑا خزانہ دفن ہے،پھر رات کو کھدائی کرکے خزانہ نکالنے کا منصوبہ بناکر چلے آئے جب رات نے تاریکی کی چادر اوڑھ لی اور چہار سو سناٹاہوگیا تووہی دونوں مزدور آئے اور جائے نماز ہٹاکر زمین کھودنا شروع کردى،کافی دیر تک کھودتے رہے لیکن خزانہ تو درکنار پھوٹی کوڑی بھی ہاتھ نہ آئی، مجبوراً مٹی واپس گڑھے میں ڈالی اور جگہ ہموار کرکے جائےنماز بچھا دی تاکہ بھىد نہ کھل سکےاوراگلے دن دوسرے مزدوروں کے ساتھ مل کر پہلے کی طرح کام میں مشغول ہوگئے جب شام ہوئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان دونوں مزدوروں سے فرمایا: تمہىں آج کى مزدورى سب سے آخر میں دی جائے گی، جب وہ دونوں مزدور آخر میں اپنی مزدوری لینے آئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے دونوں کو چار چار آنے ادا کئے ، یہ دیکھ کر دیگر مزدور عرض کرنے لگے : حضور! ہمیں دو