ہے مالک کے دَر سے جوتے پڑیں تب بھی اس کا دَر نہیں چھوڑتا مزید فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خوبیاں دیکھ کر ریاکاری سے دور رہتے ہوئےعبادت اورآخرت کی تیاری کرنی چاہیےکہیں ایسا نہ ہوکہ کتے ہم سے بازی لے جائیں ۔ (1)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کلام کا مُصدَّقہ دىوان تو کہىں نہىں ملتا البتہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام کےکئی مُرتَّب نسخے موجود ہیں، چند کے نام یہ ہیں :
٭…کافىاں حضرت بابا بلھے شاہ، ٭… گنجىنۂ معرفت، ٭…کافىاں مىاں بلھے شاہ، ٭…قانونِ عشق، ٭…کلىاتِ بلھے شاہ ۔ (2)
بابا بلھے شاہ کے مہکتےمدنی پھول :
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جہاں اپنے کلام کےذریعے سرد دلوں میں عشق ومحبت کی گرمی پیدا کی تووہیں اپنے ملفوظات کو مدنی پھولوں میں ڈھال کر کوچۂ دل کو مہکا دیا چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں :
۱۔جو علم بے عمل ہے وہ دل کى کھوٹ کو کھرا نہىں کرسکتا۔
۲۔اس علم کا کوئى فائدہ نہىں جس سے ذلت و خوارى حاصل ہو۔
۳۔ظاہری جمع خرچ محض تکبر کی نشانی ہے جب تک عملاً کچھ نہ کیا جائےمراد کا پھل حاصل نہیں ہوسکتا۔
________________________________
1 - سائیں بلھے شاہ ص ۳۳۴ملتقطاً
2 - سیرت بلھے شاہ ، ص۱۴۹ ملتقطاً