Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
64 - 73
اعلیٰحضرت امام احمد رضا خاں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلاً کوئی تَخالُف نہیں اس کا مُدَعِی اگر بے سمجھے کہے تونرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بددین، شریعت حضور اقدس سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)   کے افعال  اور حقیقت حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)   کے احوال، اور معرفت حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)   کے علوم بے مثال۔  (1)    
	غافل دلوں کو بیدار کرنے اور ریاکاری سے پاک عبادت کرنے کامدنی  ذہن عطا کرتے ہوئےفرماتے ہیں: 
راتیں جاگیں کریں عبادت ،راتیں جاگن کتے ،	تیتھوں اتّے
بھونکنوں بند مول نہ ہُندے ،جا روڑی تے ستّے،	تیتھوں اتّے
بلھے شاہ کوئی رخت وہاج  (2)   لے، نئیں تے بازی لے گئے کتے   تیتھوں اتّے
	یعنی انسان رات جاگ کر عبادت کرتا ہے مگر یہ کوئی کمال نہیں کیونکہ  خدمت، وفاداری اور فرمانبرداری کے اوصاف تو کتے میں بھی پائے جاتے ہیں بلکہ وہ انسان سے آگے بھی نکل جاتا ہے کہ رات بھر جاگ کر اپنے مالک اور اس کے گھر کی رکھوالی کرتا ہے اور اس خدمت کے عِوض دن میں کُوڑے کے ڈھیر پر بھی سوجاتا 


________________________________
1 -    فتاوی رضویہ۲۱ / ۴۶۰
2 -    روحانی دولت کمانا