سجادہ نشین
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید خاص حضرت سلطان احمد مستانہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال پیرومرشدکی حیاتِ مبارکہ میں ہوگیا تھا جس کی وجہ سے حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہان کے بیٹے سے بڑی محبت فرمایاکرتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سجادہ نشینی کا اعزاز آج بھی انہی کی اولاد میں چلا آرہا ہے۔ (1)
کلام حضرت بابا بلھے شاہ
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کلام معرفت اور عشقِ حقىقى سے بھرپور ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی تمام روحانی منازل کے حصول کا ذریعہ اور پہلا سبب شریعت ِمحمدی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہی قرار دیا اور اس پر عمل کو لازمی جانا چنانچہ لکھتے ہیں :
شریعت ساڈی دائی اے طریقت ساڈی مائی اے
اگوحق حقیقت آئی اے اتے معرفتوں کجھ پایا اے (2)
یعنی شریعت ہماری ظاہری ضرورت ہے اور طریقت ہماری اصل حاجت ہے۔ انہی دو کے ذریعے حقیقت و معرفت تک رسائی ہوتی ہے۔ امامِ اہلسنّت سیّد ی
________________________________
1 - سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ، ص۱۱۲ملخصاًوغیرہ
2 - سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ، ص۱۷۴