Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
62 - 73
 اور دشوار گزار منزلوں کو طے کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یاوری اور رہنمائی فرمائی گئی کہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دل کی آنکھیں منور ہوگئیں اور ذاتِ حقیقی سے ہمیشہ کے لئے نہ ٹوٹنے والا ربط وتعلق پیدا ہوگیا جس کے نتیجے میں حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عشقِ الٰہی میں مستغرق رہنے لگے۔ آپ کے اشعار میں  محبتِ الٰہی کا رنگ عیاں ہے۔   (1)  
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حلیہ مبارکہ
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شکل و صورت کے اعتبار سے خوبرو اور خوش شکل  تھے،سنّت کے مطابق سر ِاقدس پر زلفیں ہوا کرتی تھیں ، آنکھىں گول اور موٹى تھىں جو دیکھنے والوں کو بَھلی معلوم ہوتی جبکہ چہرے کے نقوش تىکھے   (خوب صورت)   تھے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے شرىعت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی سجا رکھی تھی جو بہت گھنی تھی جس  کى بدولت چہرہ پر اىک رعب و دبدبہ نظر آتا تھا۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ڈھیلا ڈھالا کرتہ پہنتے اور ساتھ تہبند باندھا کرتے تھے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سارى زندگى شادى نہ کى اورپوری  زندگی تنہاگزاردی ۔  (2)  



________________________________
1 -     سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ،  ص۱۶۷ تا ۱۷۱ ملخصاً
2 -     سیرت بلھے شاہ ،  ص۱۴۸  ملخصاً