Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
61 - 73
بابا بلھے شاہ مقام ِفنا فی الرسول  پر
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پیرومرشد کے فرمان پر دُرُود وسلام کو دل وجان سے وردِ زبان بنالیا۔ صلوٰ ۃ و سلام کا وظیفہ شب وروز جاری رہتا، روز بروز عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں اضافہ و ترقی ہوتی رہی یہاں تک کہ ذکرِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بغیر دل کی بےچینی حد سے بڑھ جاتی  جس کا اظہار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی شاعری میں بھی فرمایا ہے۔
پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر گھڑی ہر لمحہ  پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤ ں میں گم رہنے لگے، عالم رؤیا   (عالم خواب )   ہو یا عالمِ بیداری ہمہ وقت جلوۂِ محبوب سے سرشار رہتےاسی مقام و منزل کو اہلِ سلوک فنا فی الرسول کانام دیتے ہیں ۔  (1)  
ایسا گما دے ان کی وِلا میں خدا ہمیں	                    ڈھونڈا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! معرفتِ الٰہی اور عرفانِ خداوندی کی منزل ایک اتھاہ   (بہت ہی گہرا)   سمندر اور بحرِ بے کنار ہے جس کی نہ ابتداہے اور نہ ہی انتہا،  ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نے اس بحرِ عمیق میں اپنے آپ کو ایسا کھویا اور اس انداز سے گم کیا کہ اپنے وجود اور ہستی کا احساس ہی نہ رہا چنانچہ
بابا بلھے شاہ فنا فی اللہ ہوگئے  
 	جب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسول کی کٹھن


________________________________
1 -     سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ،  ص۱۴۱تا ۱۴۸ ملخصاً