کےجگمگاتے اور روشن اصول کو واضح الفاظ میں بیان فرماتے ہیں : اللہ کی طرف وسیلہ رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں اور رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف وسیلہ مشائخِ کرام، سلسلہ بہ سلسلہ جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک بے وسیلہ رسائی محالِ قطعی ہے یونہی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک رسائی بے وسیلہ دشوار عادی ہے۔ (1)
فنا ئیت کے تین درجے
اعلیٰحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے جدِّ مرشِد حضرت سیِّد شاہ آلِ اَحمد اچھے میاں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ’’ آداب ِسالکین ‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں! فنا کے تین درجے ہیں:
(۱) فَنافِی الشَّیخ (۲) فَنافِی الرَّسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (۳) فَنافِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ
آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہحضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ”نَفْحاتُ الانَس ‘‘ کے حوالے سے ذکْر کرتے ہیں کہ عام ولایت تو تمام ایمان والوں کو حاصل ہے مگر خاص ولایت ، (اَہلِ طریقت) میں ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔ جو فَنافِی الشَّیخ کے ذریعے فَنافِی الرَّسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہو کر فَنافِی اللہ ہوگئے۔ (2)
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ۲۱ / ۴۶۴
2 - آداب ِ مرشد کامل ، ص ۱۲۵