حضرت بابا بلھے شاہ کا عشقِ رسول
جب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ محبتِ شیخ میں درجہ کمال کو پہنچ کرفنا فِی المُرشِد کے مقام پر فائز ہوگئے تو پیرو مرشدحضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےآپ کو بارگاہِ رسالت میں پیش کرنےسے پہلے فرمایا: جب تک کسی کی آنکھیں نورِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے منور نہ ہوں تو نورِ الٰہی کے جلوے نہیں دیکھ سکتا ،جس طرح نورِ مرشدکے بغیر نورِ نبی کا دیکھنا ممکن نہیں اسی طرح نورِ نبی کےبغیر نورِ الٰہی دیکھنے کے لئے نورِ نبی کی عینک ضروری ہے،نبی کی معرفت کے بغیر معرفتِ الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی ،مالکِ حقیقی تک رسائی کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ رسولِ خدا محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مقدسہ ہے کوئی بھی سالک راہِ سلوک کی منزل نہیں پاسکتا جب تک اس دَر کا بھکاری نہ بن جائے ۔ اس کے بعد پیرو مرشد نے حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کان میں کچھ خاص کلمات ارشاد فرمائے جس سے حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سینے میں عشقِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آگ بھڑک اٹھی، رواں رواں دریائے محبتِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ڈوب گیا پھر پیرومرشد نے لباس و بدن کو معطر رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے درود و سلام کی کثرت کا وظیفہ عطا فرمایاکہ یہی عشاق کا محبوب وظیفہ ہے ۔ (1)
پیارے اسلامی بھائیو! امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہراہِ طریقت
________________________________
1 - سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ، ص۱۴۰ملخصاً