Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
58 - 73
مردوں سے تشبہ کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے تشبہ کریں۔  (1)  جبکہ ایک حدیثِ پاک میں توفقط زنانہ لباس پہننے والے مرد پر لعنت فرمائی ہے چنانچہ حضرت  ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس مرد پر لعنت کی، جو عورت کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی، جو مردانہ لباس پہنتی ہے۔  (2)  
	امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کے سنہرے حروف سے لکھنے والے کلمات ملاحظہ کیجئے چنانچہ فرماتے ہیں :  وَجد کہ حقیقۃً دل بے اختیار ہوجائے اس پر تو مطالبہ کے کوئی معنی نہیں، دوسرے تَواجُد یعنی بَاختیارِخودوجد کی سی حالت بنانا، یہ اگرلوگوں کے دکھاوے کوہوتوحرام ہے اور ریا اور شرک خفی ہے، اور اگرلوگوں کی طرف نظراصلاً نہ ہوبلکہ اَہلُ اﷲ سے تشبہ اور بہ تکلف ان کی حالت بنانا کہ امام حجۃ الاسلام وغیرہ اکابر نے فرمایاہے کہ اچھی نیت سے حالت بناتے بناتے حقیقت مل جاتی ہے اور تکلیف دفع ہوکر تَواجُد سے وجد ہوجاتاہے تو یہ ضرور محمود  (پسندیدہ )  ہے مگراس کے لئے خلوت   (تنہائی)   مناسب ہے مجمع میں ہونا اور ریاسے بچنابہت دشوارہے۔  (3)  
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد



________________________________
1 -     ابوداود،  کتاب اللباس،   باب فی لباس النساء ۴ / ۸۳،  حدیث:۴۰۹۷
2 -     ابوداود،  کتاب اللباس،   باب فی لباس النساء ۴ / ۸۳،  حدیث:۴۰۹۸
3 -     فتاویٰ رضویہ ۲۳ / ۷۴۵