Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
57 - 73
باندھےتھے جان لیجئے کہ کوئی بھی ولی چاہے وہ کتنے ہی بڑے مرتبے پر فائز ہو،احکامِ شرعیہّ کی پابندی سے آزاد نہیں ہوسکتا ، حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ باشرع عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت متقی، پرہیز گار اور سخت مجاہدہ کرنے والے تھے لہذا آپ جیسے باعمل عالم دین سے غیر شرعی امور کا صدور نہیں ہوسکتا اور اگر بالفرض زنانہ لباس پہننے اورگھنگرو باندھنے والی بات کا سچ ہونا تسلیم بھی کرلیا جائے تو حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حالت کو بے خودی پر محمول کیا جائے گا کہ جس میں انسان کو خود پر اختیار نہیں رَہ پاتااور نہ اس پر شریعت گرفت فرماتی ہے، پیرو مرشد کی ناراضی کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرغم کی حالت اس قدر طاری ہوچکی تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس وقت بے خودی اور جذب کے عالم میں تھےتوان معاملات کا صدور ہوا جو کہ دلیل نہیں بنائے جا سکتے ۔مشہور مقولہ ہےکہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے، یہ بات اگرچہ درست اور لائقِ تحسین ہے  مگر اس نقل اور پیروی کرنے میں لاز م و  ضروری ہے کہ کوئی بات خلاف شریعت نہ ہو اور نہ ہی کسی قسم کے گناہ کی آمیزش پائی جائے جونہی اس میں اللہو رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی شامل ہوگی قابلِ مردود ہے لہذاکسی بھی مرد کا زنانہ لباس پہننا گھنگرو باندھنا ناجائز وحرام ہےکہ حدیث پاک میں عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کو ملعون قرار دیا ہے چنانچہ امام ابو داود نے ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان عورتوں پر لعنت کی جو