Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
56 - 73
 پکار تھی جب مرشد کریم حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مبارک کانوں میں سوزوگداز میں ڈوبی ہوئی آواز پہنچی اور حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس درد ناک حالت میں دیکھا تو دل پسیج گیامرید صادق کو پہچان تو گئے تھے لہذا دل جوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم بلھے شاہ ہو؟مرید صادق حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  بس یہی آرزو تھی کہ کسی طرح مرشدِ کریم میری جانب توجہ فرمالیں  چنانچہ بے اختیار پیرومرشد کے قدموں میں آگرے اور عرض کرنے لگے : یا مرشدی ! میں بُلھا  نئیں ،بھُلا آں یعنی ’’میں بُھولاہواہوں‘‘مرشد کریم نے مرید صادق کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور کمالِ  عنایت و شفقت سے اپنےسینے سے لگالیاپھر تو رحمت کا بند چشمہ دوبارہ پھوٹ نکلا، سوکھی کیاری کو پھر سے پانی مل گیا،حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی گلِ گلزار ہوگئی ،لطف وسرور کے رنگ برنگے پھولوں سے مہک اٹھی اب  مرید کامل فنا فی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہوچکا تھا ۔  (1)   
بس تیری یاد ہو دل میرا شاد  ہو 		مجھ کو مئے وہ پلا میرے مرشد پیا
ایسا غم دے مجھے ہوش ہی نہ رہے	مست اپنا بنا میرے مرشد پیا
	پیارے اسلامی  بھائیو!مشہور ہے  کہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پیرومرشد کو راضی کرتے وقت زنانہ لباس پہنا اورپاؤں میں گھنگرو 



________________________________
1 -     سائیں بلھے شاہ ،  ص۳۵ تا ۴۰ ملخصاً وغیرہ