Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
55 - 73
ہیں کہ میرے بیٹے  عبدالرحمن نے پانچ برس کی عمر میں مجھ سے کہا:  اباجان!سچا مرید وہ ہے کہ جب مرشِد اس پرناراض ہوجائے تو اس کی روح نکلنے کے قریب آجائے اور وہ نہ کھائے نہ پئے  نہ ہنسےاور نہ سوئے، یہاں تک کہ   (وہ اس قدر غمگین و فکر مند ہو کہ )   اس کے پیرو مرشِد اس سے راضی ہوجائیں ۔  (1)  
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
کیا پُرسِش اور جا بھی سگِ بے ہُنر کی ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مرشد کیسے راضی ہوئے ؟
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بات جانتے تھے کہ دادا پیروارثِ فیضانِ محمدی حضرت علامہ سیِّد محمد رضا شاہ قادری شطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عرس مبارک کا زمانہ قریب ہے اور پیرو مرشد کی عرس پر ضرور حاضری ہوتی ہےچنانچہ جب عرس مبارک شروع ہوا اور حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تشریف لائے تو حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر راہ میں کھڑے ہو گئے اورجھوم جھوم کر دیوانہ وار نہایت پرسوز آواز میں اشعار پڑھنے لگے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی آواز میں بَلا کا درد تھا اشعار میں کلیجے کو چھلنی کردینےوالی



________________________________
1 -     آداب مرشد کامل ص۶۱ تا ۶۸ملخصاً