Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
54 - 73
وقت اور ہر حال میں اپنے پیرو مرشد کی رضاکا طلب گار رہےاور ہر اس بات یا عمل سے بچنے کی کوشش کرتا رہے جس سے ان کی ذات کو رنج و غم یا تکلیف پہنچتی ہواور اگر خدا نخواستہ کوئی ایسی بات یا عمل سر زَد ہوجائےجو  پیرو مرشدکی  ناراضی کا سبب بنےیا   وہ  کسی کام پر خفگی یا عِتاب کا اظہار کریں یا کسی بات پر دھتکاردیں تو مرید کو چاہیے کہ ان  سے ہرگز جدا مت ہو، ان کو راضی کرنے کی کوشش میں لگارہےاور یہی  آس لگا کر رکھے کہ ایک نہ ایک دن پیرو مرشد ضرور نظر ِکرم فرمائیں گےاور مجھ سے راضی ہوجائیں گے اس کے ساتھ ساتھ صبر کو لازم پکڑتے ہوئے اپنا مدنی ذہن بنائے کہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کسی ایک مسلمان کو ایک سانس برابر بھی ناپسند نہیں سمجھتے اورخفگی یا عِتاب کا اظہاردراصل  مریدوں کی تعلیم کی غَرَض سے ہوتا ہےجس سے مرید اَنجان و بے خبر ہوتے ہیں نیز یوں بھی مدنی ذہن بنائے کہ بعض اوقات اس خفگی یا عِتاب سے مرید کا امتحان لینا مقصود ہوتا ہے اورجو  اس میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے وہ ہی فیضِ باطِنی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے چنانچہ عارِف باللہ امام  عبدالوہاب شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  خزینۂ  مَعرفت کا بیش بہااور تراشا ہوا ہیرا عطا کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  مرید پر لازم اور واجب ہے کہ جب مرشِد اس سے ناراض ہوجائیں تو فوراً ہی اس کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ جائے  اگرچہ اسے اپنی خطا کا پتا نہ چلے۔ جس مرید نے اپنے مرشِد کو راضی کرنے کی طرف جلد بازی نہ کی تو یہ اس مرید کی ناکامی کی دلیل و علامت ہے۔مزید فرماتے