Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
53 - 73
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اندازِ بے رُخی اور اپنے خاصُ الخاص مرید کی بے قدری کا سن کر حضرت علامہ  شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے چہرہ مبارکہ پر ناراضی کےآثار نمودار ہوئے اور فرمایا:  ہم نے آج سے بلھے شاہ کی کیاریوں سے اپنا پانی روک لیاہے، بس اتنا کہنےکی دیر تھی کہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےلئے قیامت برپا ہوگئی جونہی مرشد کریم نے اپنی نظر ِکرم پھیری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل پر چھریاں چل گئی،سر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دم بھر میں کیا سے کیا ہوگیا ، ہوش رہا نہ جوش،بہار خزاں میں بدل گئی، اجالا اندھیرے میں اور خوشی غم میں تبدیل ہو گئی۔ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آستانے کا انتظام مرید خاص حضرت سلطان احمد مستانہ کے  سپرد فرمایا اور مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئے  بارگاہِ مرشد میں حاضری چاہی مگریہ کیا !آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو  آنے سے روک دیا گیا کوئی شُنوائی نہ ہوئی  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی جان پر بَن آئی،جدائی اور پشیمانی کی حالت نے تڑپا کر رکھ دیا ،چین لُٹ گیا اور قرار مِٹ گیا،مگرپیرو مرشد نے مرید صادق کوابھی آزمانا تھا آزمائش کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانا مقصود تھا جبکہ  مرید صادق کی  بس یہی چاہت تھی کہ کسی طرح مرشد راضی ہوجائیں  میری غلطی کو معاف کردیں اسی حالت میں دروازے پر کھڑے رہتے، دیارِمرشد کی خاک چھانتے رہتے نہ دن کا خیال رہا نہ رات کا،  آنے والا ہر لمحہ جدائی کے زخم کو مزید گہرا کرتا جاتا۔
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک مرید کے لئے لازم و ضروری ہےکہ ہر