Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
52 - 73
پیرو مرشد نے نظرِ کرم پھیر لی 
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے استادِ محترم مولانا حافظ غلام مرتضیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور ان کی خدمت کو عین سعادت سمجھتے تھے،ایک بار استادِمحترم کی صاحب زادی کا نکاح ہوا تو استادِ محترم نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو مہمانوں کی خدمت پر مامور کیاایک   شاگرد کی حیثیت سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جملہ انتظامات میں نہایت اخلاص اور تن دہی سے حصہ لیا اتفاق سے اسی دن پیر و مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کےبھتیجے اور خاص الخا ص مرید حضرت مولانا ظہور محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  تشریف لائے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان سے مختصر ملاقات کی اور ایک خادم کی ذمہ داری لگائی کہ حضرت کی خدمت اور خیر خواہی میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے اور مہمانوں سے فارغ ہوکر خود حاضر ہونے کا کہہ کر رخصت ہوگئے،جب  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمہمانوں اور دیگر انتظامی معاملات سے فارغ ہوئے تو رات کافی بیت چکی تھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس خیال سے حضرت مولانا ظہور محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس نہ گئے کہ وہ آرام فرمارہے ہوں گے اور میری وجہ سے کہیں ان کی نیند میں خلل نہ آجائے لیکن  دوسری طرف حضرت مولانا ظہور محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بے تابی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتظارکرتے رہے یہاں تک کہ پوری رات گزر گئی پھر صبح تڑکے ہی مرکز الاولیاء لاہور روانہ ہوگئے اور پیرو مرشد کی بارگاہ میں پورا ماجرا کہہ سنایا، حضرت بابا بلھے شاہ