خیر و شر کی چابی
حضر ت سیِّدنا سہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سَرورِ عالَم،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس خیر وشر کے خزانے ہیں اوران خزانوں کی چابیاں انسان ہیں ، اُس شخص کیلئے خوشخبری ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خیر کی چابی اورشر کیلئے تالا بنایا اورہلاکت ہے اُس شخص کےلئے جسے شر کی چابی اورخیر کے لئے تالا بنایا۔ (1)
مسلمان کی مصیبت دور کرنے والا
حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب ، بیمار دلوں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی مسلمان کی دنیاوی مصیبت کو دور کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت میں اس کی مصیبت کو دور فرماۓگا ، جو مسلمان کے عیب چھپائے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دنیا وآخر ت کے عیوب چھپائے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّبندے کی مدد کرتارہتاہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتاہے۔ (2)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
________________________________
1 - المعجم الکبیر، ۶ / ۱۵۰، حدیث:۵۸۱۲
2 - مسلم کتاب الذکر، باب فضل الاجتماع الخ، ص۱۴۴۷، حدیث :۲۶۹۹