Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
49 - 73
قصور   شہرمیں آمد
	اس سفر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہمراہ بڑی ہمشیرہ اور دو خاص مرید حضرت سلطان احمد مستانہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرت حافظ جمال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تھے۔قصور آکرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سب سے پہلے اپنے استادِ گرامی حضرت علامہ خواجہ حافظ غلام مرتضیٰ صدیقی قصوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضری دی اور دعائیں لیں پھر  شہرکی گنجان آبادی میں ٹھہرنے کے بجائے کچھ دور ایک تالاب کے کنارے رہنا پسند فرمایا۔ابتدا میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اہل ِ قصور کی جانب سے پَس و پیش  اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر جب ان پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیغامِ توحیدو رسالت کو عشق ومحبت کے روپ میں ڈھال کر بھولی بھٹکی مخلوقِ خدا کو درِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا غلام بنانااورانہیں  عشق ِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جام پلانا چاہتے ہیں تو ان کی تمام مخالفت  محبت اور الفت میں بدل گئی رفتہ رفتہ  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بزرگی اورولایت کے چرچے عام ہوگئے شہرت اور مقبولیت کا یہ عالَم ہوگیا کہ لوگ دور دور سے آکرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گرد پروانہ وار جمع ہونے لگے جو حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا دامنِ مراد بھر کر لے جاتا، برسوں کا بیمار آتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دم کئے اىک گھونٹ پانى سے شِفاىاب ہوجاتا ، دکھ درد اور تکلیف کا مارا آتا تو سکھ چین لے کر لوٹتا، پریشان حال آتا تو خوش باش ہوکرجاتا، اور جو شرىف زادىاں اپنى غربت کى وجہ سے ماں باپ کے کاندھوں کا بوجھ بنى ہوئى تھىں وہ حضرت بابا