Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
48 - 73
 رہے گا چنانچہ اب میں اسی کا انتظار کررہا ہوں اور اپنے جرم کو بار بار یاد کر کے نادم وشرمسار ہورہاہوں اوراپنے جہنمی ہونے کا اقرارکرتا ہوں۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر مسلمان کو اپنے محبوب اور پیارے بندوں  کی بے ادبی وگستاخی کی لعنت سے محفوظ رکھے اور اپنے محبوبوں کی تعظیم وتوقیر اوران کے ادب واحترام کی توفیق بخشے۔  (1)  
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مرشِد کے فرمان پر 
	’’پانڈو کے‘‘ سے رخصت ہونے کے بعد حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت  قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئےپھرکچھ عرصہ بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو  ’’ قصور  ‘‘  شہر جانے کا حکم ہوا چونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنا دور ِ طالب علمی وہاں گزارا تھا اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہوہاں کےحالات سے بخوبی واقف تھےچنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے : شہر قصور مىں نیک کام کرنے والے اور سخاوت سے کام لینےوالے  نہ ہونے کے برابر ہیں اور وہاں ملکی قانون بھی نافذ نہیں مگر پھر بھى  مجھے قصور جانا ہے کىونکہ مىرے مرشد کا ىہى حکم ہے ۔  (2)  



________________________________
1 -    کراماتِ صحابہ ص:۹۳
2 -     دلوں کے مسیحا،  ص۳۳۷ تا ۳۳۸ ملخصاً