Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
47 - 73
 اوراپنے چہرے کے بل زمین پر اوندھا پڑا ہو اباربار لگاتاریہی کہہ رہا ہے کہ ’’ہائے افسوس ! میرے لئے جہنم ہے۔‘‘یہ منظر دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے اس سے پوچھا کہ اے شخص ! تیرا کیا حال ہے ؟ اورکیوں اورکس بِنا پر تجھے اپنے جہنمی ہونے کا یقین ہے؟ یہ سن کر اس نے یہ کہا:  اے شخص! میرا حال نہ پوچھ، میں ان بدنصیب لوگوں میں سے ہوں جو امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کرنے کے لئے ان کے مکان میں گھس  گئے تھے ۔ میں جب تلوار لے کر ان کے قریب پہنچا تو ان کی زوجہ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مجھے ڈانٹ کر شور مچانا شروع کردیا جس کی وجہ سے میں نے انہیں  ایک تھپڑ ماردیا یہ دیکھ کر امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ دعا مانگی کہ ”اللہ  تعالیٰ تیرے دونوں ہاتھوں اوردونوں پاؤں کو کاٹ ڈالے اورتیری دونوں آنکھوں کو اندھی کردے اور تجھ کو جہنم میں جھونک دے ‘‘ ۔ اے شخص!میں امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پُر جلال چہرے کو دیکھ کر اوران کی اس قاہرانہ دعا کو سن کر کانپ اٹھا اور میرے بدن کا ایک ایک رونگٹا کھڑا ہوگیا اور میں خوف ودہشت سے کانپتے ہوئے وہاں سے بھاگ نکلا۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی چاردعاؤں میں سے تین دعاؤں کی زَد میں تو آچکا ہوں، تم دیکھ رہے ہوکہ میرے دونوں ہاتھ اوردونوں پاؤں کٹ چکے جبکہ دونوں آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں  اب صرف چوتھی دعا یعنی میرا جہنم میں داخل ہونا باقی رہ گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ بھی یقیناًہوکر