شان میں کوئی گستاخی وبے ادبی کرتاہے تو خداوندِ قُدُّوس کی قہاری وجباری اس مردود کو ہرگز ہرگز معاف نہیں فرماتی بلکہ ضرور بالضروردنیا وآخرت کے بڑے بڑے عذابوں میں گرفتار کردیتی ہے اوروہ دونوں جہاں میں قہر ِقہار وغضب ِجبار کا اس طرح سزاوار ہوجاتاہے کہ دنیا میں لعنتوں کی باراورپھٹکاراورآخرت میں عذاب نار کے سوا اس کو کچھ نہیں ملتا۔ صرف دو گناہوں پر بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اعلانِ جنگ دیاگیا ہے ایک سود خور دوسرے دشمن ِاولیا کو ،چنانچہ حضرت سیِّدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ ذیشان ہے: مَنۡ أَهَانَ لِيۡ وَلِيًّا فَقَدۡ بَارَزَنِيۡ بِالۡمُحَارَبَة جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی بے شک اس نے میرے ساتھ جنگ کا اعلان کیا۔ (1)
گستاخِ ولی دونوں جہاں میں ذلیل و رسوا
حضرت ابو قلابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ میں ملکِ شام کی سرزمین میں تھا تو میں نے ایک شخص کو بار بار یہ صدا لگاتے ہوئے سنا کہ ’’ہائے افسوس! میرے لئے جہنم ہے ۔‘‘میں اٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شخص کے دونوں ہاتھ اورپاؤں کٹے ہوئے ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہے
________________________________
1 - کنزالعمال، کتاب الایمان والاسلام، قسم الاقوال، ۱ / ۲۰۰، حدیث: ۱۶۷۶