آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی بڑی ہمشیرہ کو لے کر وہاں سے نکل آئے۔ (1)
ولی کی گستاخی کا انجام
پھر گاؤں کے بڑے بوڑھوں نے چودھریوں کو سمجھایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایک ولی کو تم نے ستایا ہے کہیں تم پر کوئی بڑی مصیبت نہ آن پڑے چنانچہ وہ سب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو منانے آئے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےجانے سے انکار کردیا جسے انہوں نے اپنی بے عزتی سمجھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا یہ دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو جلال آگیا اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے: اُجڑ گیا پانڈوکے نگھر گیا سدھار، جب انہوں نے یہ کلمات سنے تو ناکام و نامراد لوٹ گئے ۔اس بدتمیزی اور گستاخی کی سزا انہیں یوں ملی کہ جب وہ غیر مسلم اپنی قوم کے پاس پہنچا اورانہیں پوری صورت حال سے آگاہ کیاتو وہ قَہر ِخداوندی بن کر ”پانڈوکے ‘‘ پر حملہ آورہوئے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی نیز چودھریوں کو قتل کرکےان کا سارا مال و اسباب لوٹ لیا ۔ (2)
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ اگرچہ عیبوں کو چھپانے والا گناہوں کو بخشنے والا،رحیم و کریم ہے لیکن اگرکوئی بدنصیب اس کے محبوب بندوں کی
________________________________
1 - سیرت بلھے شاہ ، ص۶۹ ملخصاً
2 - سوانح حیات حضرت بابا بلھے شاہ ، ص۱۰۳ تا ۱۰۵ملخصاً