آپ کو آتا دىکھ کر چھپ جاتا تھا لىکن مىرے پىارے والد صاحب کى وفات پر آپ کے ہمدردانہ انداز نے مىرا دل بدل دىا، جس آدمى نے مجھے آپ سے بددِل کىا تھا وہ مىرے والد ِ مرحوم کے جنازے تک مىں نہىں آىا، اس واقعے کو تادمِ تحرىر کوئى 35 سال کا عرصہ گزر چکا ہوگا وہ اسلامى بھائى آج بھى بہت محبت کرتے ہىں، نہاىت بااثر ہىں تنظىمى طور پر کام بھى کرتے ہىں، داڑھی سجائى ہوئى ہے، خود مىرے پىر بھائى ہىں، مگر ان کے بال بچے نىز دىگر بھائى اور خاندان کے مزىد افراد عطارى ہىں، چھوٹے بھائى کا مدنى حلىہ ہے اور دعوتِ اسلامى کے ذمے دار ہىں بڑے بھائى بھى باعمامہ تھے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پانڈوکے سے ہجرت
مشہور مغل بادشاہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا تو پنجاب میں ایک غیر مسلم قوم نے آزادی اور خود مختاری کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے اتفاقاً اسی قوم کا ایک فرد ”پانڈوکے ‘‘ کے قریب سے گزرا تو گاؤں والوں نے اسے پکڑ لیا اور خوب مارا حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیچ بچاؤ کرواکر اس کی جان چھڑوائی ،گاؤں کے چودھریوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو سخت برہم ہوئے او ر چندغنڈوں اور اوباشوں کو لے کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی رہائش گاہ پر حملہ کرکے اسے سخت نقصان پہنچایااور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو شدید زخمی کردیا چنانچہ