جن کى قىمت (ساری) دنىا بھى نہىں ہوسکتى۔ (1)
تعزیت کسے کہتے ہیں؟
تعزىت کا معنى ہے، مصىبت زدہ آدمى کو صبر کى تلقىن کرنا۔ تعزىت مسنون (ىعنى سنّت ) ہے۔ (2)
روٹھا ہوا مَن گیا
امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید ارشاد فرماتے ہیں : بسا اوقات غمخوارى اور تعزىت کے دنىا مىں بھى ثمرات دىکھے جاتے ہىں، چنانچہ ان دنوں کى بات ہے جن دنوں نور مسجد کاغذى بازارباب المدىنہ کر اچى مىں مىرى امامت تھى، اىک اسلامى بھائى پہلے مىرے قرىب تھے پھر کچھ دور دور رہنے لگے مگر مجھے اندازہ نہ تھا، اىک دن فجر کے بعد مجھے ان کے والد صاحب کى وفات کى خبر ملى مىں فورا ًان کے گھر پہنچا، ابھى غسلِ مىت بھى نہ ہوا تھا، دعا فاتحہ کى اور لوٹ آىا، نمازِ جنازہ مىں شرىک ہو کر قبرستان ساتھ گىا اور تدفىن مىں بھى پىش پىش رہا، اس کے فوائد تصور سے بھى بڑھ کر ہوئے چنانچہ اس اسلامى بھائى نے خود ہى انکشاف کىا کہ مجھے آپ کے بارے مىں کسى نے وَرغَلاىا تھا اس کى باتوں مىں آکر مىں آپ سے دور ہوگىا اور اتنا دور کہ
________________________________
1 - المعجم الاوسط، ۶ / ۴۲۹، حديث :۹۲۹۲
2 - بہار شرىعت، ۱ / ۸۵۲