Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
42 - 73
 مدرسہ کی مالی مُعاونَت  ترک کردی  اورسخت گیر رویہ اپناتے ہوئے ذاتی ملازم سمجھنا شروع کردیا  مگر والد ماجد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمت نہ ہاری اور مدرسہ کا نظام بخوبی چلاتے رہے کچھ عرصہ بعد والد ماجد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے والدہ ماجدہ اور دو چھوٹی ہمشیراؤں  نے عالَم جاوِدانی کا سفر اختیار کیا رشتہ داروں میں اب بڑی ہمشیرہ حیات تھیں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا کچھ عرصہ قبل ہنستا بستا گھرانہ ماتم کَدہ بن گیا، اداسی کے بادلوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرگہرا سایہ کردیا پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تعزیت کے لئے تشریف لائے تودل کو ڈھارس ہوئی اور عرض گزار ہوئے : یا مرشدی !اب یہاں دل نہیں لگتا اپنے ساتھ مجھے مرکز الاولیاء لاہور لے چلئے ،پیرو مرشد نے شفقت بھرے لہجے میں فرمایا: ابھی یہیں رہو ، یہاں تمہاری ضرورت  زیادہ ہے ۔  (1)    
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر ِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ”شیطان کے بعض ہتھیار  ‘‘ کے صفحہ 6 پر تعزیت کی فضیلت اور تعریف بیان کرتے ہوئے محبوب ِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین  نقل فرماتے ہیں :  جو کسى غمزدہ شخص سے تعزىت کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے تقوىٰ کا لباس پہنائے گا اور روحوں کے درمىان اس کى روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسى مصىبت زدہ سے تعزىت کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے جنت کے جوڑوں مىں سے دو اىسے جوڑے پہنائے گا 



________________________________
1 -     سیرت بلھے شاہ ،  ص۶۷ تا ۶۸ملخصاً وغیرہ