ان دونوں مدنی کاموں پر عمل پیرا ہونے والوں سے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بہت خوش ہوتے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں : جب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں اسلامی بھائی یا اسلامی بہن کا ”مدنی انعامات ‘‘ پرعمل ہے تو دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ ہوجاتا ہے۔
خوش نصیبوں کو اپنی پسندیدگی کی سند عطا کرتےہوئے فرماتے ہیں: میراپسندیدہ اسلامی بھائی وہ ہے جولاکھ سستی ہو مگر تین دن مدنی قافلے میں سفر کرتاہو ،جو داڑھی اور زلفوں سے آراستہ اور سنت کے مطابق مدنی لباس وعمامہ شریف سے مزیّن ہو ۔ مجھے کماؤ بیٹے پسند ہیں (یعنی جومدنی قافلے میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل کرتے ہوں )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں مَدَنی انعامات پر عمل کرنے، مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے اور ذیلی حلقے کے بارہ مدنی کام کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اہلِ خانہ کی داغِ مفارقت
تقریباًایک سال بعدحضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیرو مرشد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئےمرکزالاولیاءلاہورسےوالدین کے پاس”پانڈوکے ‘‘ تشریف لے آئے والد ماجد حضرت سىد سخى شاہ محمد گیلانی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا چھوٹا سا مدرسہ اب علمی و روحانی مرکز کی صورت اختیار کر چکا تھاجس میں گاؤں کے ”چودھری پانڈو ‘‘ نے ہر طرح کا تعاون کیا تھا جونہی ”چودھری پانڈو ‘‘ کا انتقال ہوا اس کی اولاد نے