معرفت کا انتہائى انعام ملنا تو دور کی بات، ابتدائى صلہ بھى حاصل نہىں ہوتا کىونکہ اس کى خدمت گزارى مىں وہ خلوصِ عشق اور دىانت دارى شامل نہىں ہوتی جو کار گزارى کو بہتر بناکر مرشدکا منظورِ نظر بنادے ، اسى لىے وہ قرىب رَہ کر بھى دور ہى رہتا ہے جبکہ بعض مرید دور رَہ کر مرشد کے ہر فرمان پر لبیک کہتے ہیں اور عمل کرتے ہیں یوں مرشد کی رضا حاصل کرکے اللہ و رسول کی بارگاہ میں سرخروئی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
کوئی آیا پا کے چلا گیا کوئی عُمربھربھی نہ پا سکا
مِرے مولیٰ تجھ سے گِلہ نہیں یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مبارک کلمات ان اسلامی بھائیوں کےجذبۂ شوق پر تسکین کا مرہم رکھنے کے لئے کافی ہیں جو امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بظاہر دور رہتے ہوئے اپنے علاقوں میں یامدنی قافلوں میں سفر کرتے ہوئے دور دراز مقامات پر تن من دھن سے دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرنےمیں مصروف ہیں اگر ہم بھی اپنے مرشِد کامل کا فیض پانا چاہتے ہیں اور ان کا دل خوش کرنا چاہتے ہیں تو اپنی خواہشات کوان کی خواہش پر قربان کرنا ہوگا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہر اسلامی بھائی کے لئے خصوصی طور پر دو مدنی کام عطا فرمائے ہیں۔
(۱) مدنی انعامات (۲) مدنی قافلہ