مجاہدوں اور ریاضتوں میں مشغول رہے جب پیرومرشد حضرت شاہ عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ملاحظہ فرمایا کہ اب مرید صادق کو خلوت نشینی کی ضروت نہیں تو حکم فرمایا کہ مرکز الاولیاء لاہور واپس آجائیں ،جب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمرشد ِکریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عجب حالت تھی کہ دل بے قابو ہوچکا تھا اورآنکھوں سے اَشکوں کا سیلاب جاری تھا چنانچہ مرشدِ کریم پر نگاہ پڑتے ہی بے تابانہ قدموں سے لپٹ گئے یہاں تک کہ ہوش ہی جاتا رہا ۔بس زبان پر یہی کلمات جاری تھے کہ یا مرشد! آپ نے مجھے اپنے سے دور کیوں کیا؟اور مرشدِکریم اپنے مریدِ صادق کے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے اورتالیفِ قلب کے لئے فرماتے جاتے کہ ان مىں سے بہت سے قرىب رَہ کر بھى دور ہىں، اور تم دور رَہ کر بھى بہت زىادہ قرىب ہو۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مرید اپنے پیرومرشد کی قُربت اور صحبت میں رہے تو اسے عام طور پر خوش نصیبی اور سعادت مندی سمجھا جاتا ہےمگر یاد رکھئے کہ اصل سعادت مندی یہ ہےکہ اسے مرشدِ کریم کا فیض حاصل ہوجائے چاہے وہ پیرو مرشد سے قریب ہو یا دور، حضرت شاہ عناىت قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے فرمان کا مفہوم یہی ہے کہ مرید کا پیرو مرشد سے قریب رہنا یا دور رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا اىک مرىد اپنے مرشد کى خدمت مىں سارى زندگى گزار دىتا ہے مگر اسے
________________________________
1 - دلوں کے مسیحا، ص۳۱۷بتصرف