Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
38 - 73
تصورِ مرشد
	  حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے اوربارگاہ ِمرشد کی حاضری کو ترسا کرتے تھے۔جب جب  تصور کی بالکنی سے جھانکتےتو تصور ِ مرشد میں کھو جاتے اور زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہوجاتے کہ مىرے لىے تو بس ىہى اىک اعزاز کافى ہے کہ جب پیرو مرشد  کى نورانى مجلس آراستہ ہو، ہزاروں مرید دست بستہ بىٹھے ہوں اورمىں سرجھکائے اس بارگاہِ کرم مىں حاضری دوں تو مرشدِ عالى مقام یہ فرمارہے ہوں :  دیکھو !مىرا مرىدسىد عبداللہ آرہا ہے ، ىہ کہتے کہتے حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى آنکھوںمىں آنسو آجاتے ۔  (1)  
کروں بند آنکھیں تصور میں آئیں 		میرے پیرو مرشد سَدا یا الٰہی
بڑھے بے قراری میں مرشد پہ واری 	یوں ہوجاؤں ان پہ فِدا یا الٰہی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کون مرشد کے قریب ہوتا ہے ؟
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کواپنے پیرو مرشد سے دور رہتے ہوئے چھ سال کا عرصہ ہوچکا تھالیکن پھر بھی مرشد  کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سخت 



________________________________
1 -     دلوں کے مسیحا،  ص۳۰۸